اسقاط حمل پہ مجبور ہونا

سوال

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ

سوال:

بہن نے سوال کیا ہے کہ میرا شوہر کچھ کام کاج نہیں کرتا میرے چار بچے ہیں میرا اور میرے بچوں کا خرچہ میرے والد اٹھاتے ہیں جو محنت مزدوری کرتے ہیں اب پھر مجھے حمل ٹھر گیا ہے تو میری ماں بھی مجھ سے ناراض ہے کہ ہم کہاں تک خرچہ اٹھائیں میں اس حمل کو ضایع کرنا چاہتی ہوں ابھی 2 ہفتے اوپر ہوئے ہیں شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے؟

کام جاری ہے 0
تعلیم النسآء 3 سال 1 جواب 407 ناظرین 0

جواب ( 1 )

  1. جواب:

    سب سے پہلے تو بہن اللہ سے آپ کے لئے دعا ہے کہ اللہ آپ کی ہر مشکل کو آسان فرمائے اور آپ کے شوہر کو آپکا نان و نفقہ پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
    رحم مادر میں جنین میں روح پھونکی جانے کے بعد اس کو ساقط کرنا ممنوع و ناجائز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ‘ ارشاد باری تعالی ہے:
    ﴿وَلا تَقتُلوا أَولـٰدَكُم خَشيَةَ إِملـٰقٍ﴾ سورۂ بنی اسرائیل‘ 31

    اور تم تنگدستی کے اندیشہ سے اپنی اولاد کو قتل مت کرو ۔
    روح پیدا ہونے سے پہلے حمل ساقط کرنا بھی انجام کے لحاظ سے قتل کی مانند ہے‘ لہٰذا بلاوجہ یہ بھی ممنوع و ناجائز ہی ہے۔
    روح کب پیدا ہوتی ہے اس کے متعلق صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک وارد ہے :
    «حدثنا عبد اللہ حدثنا رسول اللہ صلی اللہ علیه و سلم وهو الصادق المصدوق إن أحدکم یجمع فی بطن أمه أربعین یوما ثم یکون علقة مثل ذلک ثم یکون مضغة مثل ذلک ثم یبعث اللہ إلیه ملکا بأربع کلمات فیکتب عمله وأجله ورزقه وشقی أم سعید ثم ینفخ فیه الروح» (صحیح بخاری شریف‘ کتاب الانبیاء‘ حدیث نمبر: 3036)

    سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ انہوں نے فرمایا سچے مصدوق رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :یقینا تم میں سے کوئی اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن نطفہ کی شکل میں رہتا ہے‘ پھر چالیس دن منجمد خون کی شکل میں رہتا ہے‘ پھر چالیس دن لوتھڑے کی شکل میں رہتا ہے‘ پھر اللہ تعالیٰ اس کے پاس چار کلمات کے ساتھ ایک فرشتہ بھیجتا ہے‘ وہ فرشتہ اس کا عمل‘ اس کی عمر‘ اس کا رزق لکھتا ہے اور یہ لکھتا ہے کہ وہ نیک بخت ہے یا بدبخت‘ پھر اس میں روح پھونکتا ہے۔
    اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک سو بیس (120) دن میں روح ڈالی جاتی ہے، روح پھونکے جانے سے پہلے جبکہ حمل منجمد خون کی شکل میں ہو یا لوتھڑے کی حالت میں ہو تو حمل ساقط کرنے کی گنجائش چند اعذار کی بناء پر ہوسکتی ہے‘ مثلاً ماں انتہائی جسمانی کمزوری سے دوچار ہے ، حمل کا بوجھ برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتی یا حاملہ یا بچہ کی جان جانے کا خطرہ ہو
    لیکن خرچہ میں کمی یا تربیت اولاد میں مشقت یا ان کے معیشت اورخرچہ پورا نہ کرسکنے کےخدشہ کے پیش نظر یا ان کے مستقبل کی وجہ سے یا پھر خاوند بیوی کے پاس جواولاد موجود ہے اسی پراکتفا کرنے کی بنا پراسقاط حمل کروانا ہر گز جائز نہيں ۔
    واللہ اعلم

جواب دیں