عید کے دن روزہ اور قربانی کے گوشت سے کھولنے والا تصور

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال:
بہن نے سوال کیا ہے کہ کیا عید کے دن روزہ رکھ کر قربانی کے گوشت سے کھولنے والی جو بات مشہور ہے کیا وہ درست ہے؟ پلیز قرآن وحدیث کی روشنی میں درست جواب دیں۔ جزاک اللہ

کام جاری ہے 0
تعلیم النسآء 2 سال 1 جواب 325 ناظرین 0

جواب ( 1 )

  1. جواب:

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    بہن! سب سے پہلے تو آپ یہ جان لیں کہ عید کے دن روزہ نہیں ہوتا۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں منع کیا گیا ہے۔

    وَلَا صَوْمَ فِي يَوْمَيْنِ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى۔(صحیح بخاری: 1197)
    عید الفطر اور عید الضحی دونوں دن روزے نہ رکھے جائیں۔

    دوسری بات جو آپ نے پوچھی ہے تو اس حوالے سے مستحب یہ ہے کہ جو قربانی کررہا ہے، وہ نماز عیدا لاضحیٰ سے پہلے کچھ نہ کھائے، بلکہ نماز عید الاضحیٰ کے بعد اپنی قربانی کرے، اور اسی قربانی میں سے گوشت کھائے، یہ مستحب عمل ہے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے

    كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ وَلَا يَطْعَمُ يَوْمَ الْأَضْحَى حَتَّى يُصَلِّيَ۔(سنن ترمذی:542)
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن جب تک کھا نہ لیتے، نکلتے نہیں تھے اور عید الا ٔضحی کے دن جب تک صلاۃنہ پڑھ لیتے کھاتے نہ تھے۔

    باقی جو آپ نے روزے والی بات کی ہے تو شریعت میں ایسے الفاظ ہمیں کہیں بھی نہیں ملتے کہ اس کو روزہ سے تعبیر کیا گیا ہو، بلکہ یہ عوام میں سے چند ایک لوگوں کی صرف لاعلمی کی بناء پر ہے۔

    نوٹ:
    ہمارے ہاں ایک رواج حتمی طور پر رواج پا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ عیدا لفطر سے پہلے ہم کچھ نہ کچھ کھانے کو لازمی قرار دیتے ہیں، اسی لیے بڑے اہتمام کے ساتھ عید نماز سے پہلے میٹھی چیز(سویاں وغیرہ) بنائی جاتی ہیں۔ اور عیدالاضحیٰ میں عید نماز سے پہلے کچھ بھی نہیں کھاتے، تو یہ جو اس حد تک پابندی ہے یہ بدعت کے ذمرے میں آتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ایک مستحب عمل ہے، ضروری یا واجب نہیں ہے۔ لہذا درست بات یہی ہے کہ اس بارے میں سختی نہیں ہے کہ عیدالاضحیٰ کی نماز سے پہلے مثل روزہ کی طرح کچھ کھانا اور کچھ پینا منع ہے۔ بلکہ ضرورت ہو تو نماز سے پہلے کھایا پیا بھی جاسکتا ہے۔ اور اسی طرح عید کی نماز کے بعد اگر قربانی میں تاخیر ہوگئی ہے تو پھر بھی قربانی کرنے والاکھا پی سکتا ہے۔

    واللہ اعلم بالصواب

جواب دیں