فتنہ سے بچنے کے لئے جھوٹ بولنا

سوال

ا لسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

سوال :

اگر ہم میاں بیوی ساس کو جھوٹ بول کر کسی جگہ جائیں اور جانا بھی ضروری ہے اور جھوٹ بھی اس وجہ سے کہ سچ طتادنے سے گھر میں فساد ہوگا اور ماں بیٹے کے درمیان لڑائی ہوجائے گی تو ایسی صورت میں جھوٹ بولنا جائز ہے ؟؟

کام جاری ہے 0
تعلیم النسآء 3 سال 1 جواب 183 ناظرین 0

جواب ( 1 )

  1. جواب:

    بنیادی طور پر شریعت میں جھوٹ بولنے کو حرام قرار دیا گیا ہے اور اسے تمام گناہوں کی جڑ کہا گیا ہے ،لیکن اگر جھوٹ بولنے سے فتنہ ٹل جائے اور لوگوں کے درمیان صلح صفائی وغیرہ ہوجائے تو مصلحت کی خاطر جھوٹ بولنا جائز ہے۔
    نبی کریم نے صلح کی غرض سے جھوٹ بولنے والے کو جھوٹا نہیں کہا۔آپ فرماتے ہیں۔:
    ” ليس الكذاب الذي يصلح بين الناس، فينمي خيرا، أو يقول خيرا “(بخاری:2692)

    جھوٹا وہ نہیں ہے جو لوگوں میں باہم صلح کرانے کی کوشش کرے اور اس کے لیے کسی اچھی بات کی چغلی کھائے یا اسی سلسلہ کی اور کوئی اچھی بات کہہ دے۔
    اس حدیث میں اس انسان کو جو دو انسانوں میں صلح کرانے کے لئے کچھ اچھے کلمات اپنی طرف سے شامل کرتا ہے تاکہ ان دو آدمیوں میں جن میں جگھڑا ہوا ہے ختم ہو جائے اور ان میں صلح ہو جائے اور ایسے کلمات جو اس نے ان دونوں میں صلح کرانے کے لئے اپنی طرف سے بولے تھے ان کلمات پر جھوٹ کا اطلاق نہیں ہوگا کہا گیا ہے۔ کیونکہ اس نے اچھی نیت سے یہ الفاظ شامل کئے۔
    اسی طرح ”مردکا اپنی بیوی سے اور بیوی کا اپنے مرد سے اس وجہ سے جھوٹ بولنا تاکہ ان کے درمیان نفرت ختم ہو جائے ”(ابوداؤد ،الحدیث 4275 )
    مذکورہ بالا روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک مقاصد کے تحت ،فتنے سے بچنے،دشمن سے اپنی جان بچانے اور لوگوں کے درمیان صلح کروانے کی غرض سے جھوٹ بولا جا سکتا ہے۔
    واللہ اعلم بالصواب

جواب دیں