گر کسی کے گھر والے اس کی طرف سے عید کی قربانی کر رہے ہوں اور وہ حج پر ہو تو کیا اسے عید کی اور قربانی بھی کرنی ہو گی؟

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا ایک دوست ہے اس کا کہنا ہے کہ اس کے گھر والے اس کی طرف سے عید کی قربانی کریں گے، تو کیا اگر وہ حج کرتا ہے تو اسے عید کی قربانی ایک بار پھر کرنی ہو گی؟

کام جاری ہے 0
تعلیم النسآء 2 سال 1 جواب 203 ناظرین 0

جواب ( 1 )

  1. جواب:
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    حاجی پر عید کی قربانی نہیں ہے اور نہ ہی اس کے لیے یہ جائز ہے کہ مکہ میں عید کی قربانی کرے، اس کے لیے شرعی عمل اور واجب ہدی (قربانی) ہے۔ چنانچہ اگر وہ حج تمتع یا قران کر رہا ہے تو اس پر ہدی (قربانی) واجب ہے، ہدی (قربانی) کے جانور میں بھی وہی شرائط لاگو ہوتی ہیں جو عید کی قربانی کے جانور پر لاگو ہوتی ہیں؛ کیونکہ حج قران اور حج تمتع کی قربانی بھی واجب ہے، اگر کسی کے پاس حج کی قربانی میسر نہ ہو تو وہ دس روزے رکھ لے، تین دن حج کے دوران اور سات دن اپنے گھر لوٹنے پر ، جیسے کہ اللہ تعالی کا حکم ہے:

    ( فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ) (سورۃ البقرة:196)

    ’’جو شخص حج کا زمانہ آنے تک عمرہ کرنے کا فائدہ اٹھانا چاہے وہ قربانی کرے جو اسے میسر آ سکے۔ اور اگر میسر نہ آئے تو تین روزے تو ایام حج میں رکھے اور سات گھر واپس پہنچ کر، یہ کل دس روزے ہو جائیں گے۔‘‘

    اور اگر حج مفرد ہے تو پھر اس پر حج کی قربانی واجب نہیں ہے، البتہ نفلی طور پر کر سکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے دوران 100 اونٹ ہدی(قربانی) کے طور پر نحر کئے تھے۔

    مطلب یہ ہے کہ اس کی جانب سے اس کے اہل خانہ عید کی قربانی کریں یا نہ کریں ہر دو صورت میں اس کے لیے دوران حج عید کی قربانی مستحب بھی نہیں ہے؛ کیونکہ وہ حج کر رہا ہے۔

    دوم:

    حاجی کے لیے یہ شرعی عمل ہے کہ وہ اپنے ملک میں اتنی مقدار میں مال چھوڑ کر آئے کہ اس کے اہل خانہ قربانی کر سکیں ۔

    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:
    ’’انسان عید کی قربانی اور حج دونوں کو بیک وقت کیسے جمع کر سکتا ہے؟ اور کیا یہ طریقہ شرعی عمل ہوگا؟‘‘

    تو انہوں نے جواب دیا:

    ’’حاجی عید کی قربانی نہیں کرے گا، حاجی ہدی ذبح (حج کی قربانی) کرے گا، یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر عید کی قربانی نہیں فرمائی، بلکہ آپ نے ہدی (قربانی) ذبح فرمائی ہے، لیکن اگر فرض کریں کہ کوئی حاجی اکیلا حج کر رہا ہے اور اس کے اہل خانہ اس کے ملک میں ہیں تو حج پر جانے سے پہلے اپنے اہل خانہ کے پاس اتنی مقدار میں رقم چھوڑ جائے کہ جس سے وہ قربانی کر سکیں، تو اس طرح اس کے گھر والے عید کی قربانی کریں گے اور وہ حج کی قربانی کرے گا۔ اس لیے کہ عید کی قربانی دیگر شہروں میں کی جاتی ہے اور ہدی مکہ میں ذبح کی جاتی ہے۔‘‘ انتہی

    فتویٰ لنک
    https://islamqa.info/ur/126013

جواب دیں