ایک عیسائی خاتون اپنے خاوند پر شرط لگانا چاہتی ہے کہ اگر وہ مسلمان ہو جاتے ہیں تو دوسری شادی نہیں کریں گے۔

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک شادی شدہ عیسائی جوڑا جن کے تین بچے بھی ہیں وہ اللہ کے حکم سے ان شاء اللہ جلد ہی حلقہ بگوش اسلام ہو جائیں گے، تاہم بیوی کو یہ خدشات لاحق ہیں کہ اگر خاوند مسلمان ہو گیا تو وہ دوسری شادی نہ کر لے، تو کیا اب یہ عورت نکاح نامے میں اپنے خاوند پر یہ شرط عائد کر سکتی ہے کہ وہ دوسری شادی نہ کرے، واضح رہے کہ وہ ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے، لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد کیا یہ شرط نکاح نامے میں تحریر کرنا صحیح ہو گا؟

کام جاری ہے 0
تعلیم النسآء 2 سال 1 جواب 479 ناظرین 1

جواب ( 1 )

  1. یہ جواب ترمیم شدہ ہے

    جواب:
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    الحمد للہ:
    اول:
    بیوی اپنے خاوند پر یہ شرط لگائے کہ اس کی موجودگی میں دوسری شادی نہیں کرنی تو یہ شرط امام احمد رحمہ اللہ کے مطابق جائز ہے، بعض صحابہ اور تابعین سے بھی اس کا جواز ملتا ہے، اسی طرح محقق علمائے کرام بھی اس کو جائز سمجھتے ہیں۔
    دوم:
    اگر میاں بیوی دونوں اکٹھے اسلام قبول کریں اور دونوں کے اسلام قبول کرنے میں زیادہ فاصلہ نہ ہو یا بیوی پہلے اسلام قبول کر لے لیکن خاوند بیوی کی عدت مکمل ہونے سے پہلے اسلام قبول کر لے تو ان تمام صورتوں میں ان کا پہلا نکاح باقی رہے گا۔
    ایسی حالت میں بیوی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے خاوند پر دوسری شادی کرنے کی پابندی لگائے؛ کیونکہ معاہدوں میں وہی شرائط معتبر ہوتی ہیں جو معاہدہ کرتے ہوئے سامنے رکھی جائیں، یا نکاح سے قبل جن شرائط کو فریقین تسلیم کر لیں۔
    اگر بیوی خاوند سے پہلے اسلام قبول کر لے اور خاوند اپنی بیوی کی عدت مکمل ہونے سے پہلے اسلام قبول نہ کرے تو پھر ان دونوں میں جدائی ہو جائے گی۔
    اب اگر عدت مکمل ہونے کے بعد خاوند اسلام قبول کر لیتا ہے تو جمہور اہل علم کے مطابق دونوں کو ازدواجی زندگی گزارنے کے لیے نیا نکاح کرنا ہو گا۔
    اور ایسی صورت میں یعنی جب نکاح نیا ہو رہا ہو تو اب بیوی اپنی شرائط نئے نکاح نامے میں شامل کروا سکتی ہے۔
    لہذا اس صورت میں دوسری شادی نہ کرنے کی شرط لگانا جائز ہو گا۔
    ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    ’’اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک پہلے اسلام قبول کرے اور دوسرا عدت ختم ہو جانے کے بعد اسلام قبول کرے تو اکثر اہل علم کے ہاں ان کا نکاح ختم ہو گیا ہے۔‘‘ انتہی (المغنی: 7؍ 154)
    پہلے ہم اس مسئلے کو بیان کر چکے ہیں کہ عدت مکمل ہو جانے کے بعد بھی بیوی کو اختیار ہو گا وہ چاہے تو اپنے خاوند کے مسلمان ہونے کا انتظار کرے ، لہٰذا اگر خاوند مسلمان ہو جاتا ہے تو اسے پہلے نکاح کے ساتھ ہی لوٹا دیا جائے گا اور اگر چاہے تو کسی اور سے شادی کر سکتی ہے۔
    سوم:
    ایسی شرائط جو عقد ِ نکاح کے بعد لگائی جائیں تو وہ طرفین میں سے کسی پر بھی لازم نہیں ہوتیں۔
    مرداوی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    ’’نکاح کیلیے معتبر شرائط ذکر کرنے کا وقت وہی ہے جب نکاح ہو رہا ہو، یہ موقف صاحب محرر اور دیگر نے ذکر کیا ہے۔۔۔ نیز شیخ تقی الدین رحمہ اللہ کہتے ہیں: اسی طرح اگر نکاح ہونے سے قبل شرائط پر طرفین کا اتفاق ہو جائے [تو وہ بھی نکاح نامے میں ذکر ہو ں گی، حنبلی فقہی] مذہب میں یہی واضح موقف ہے۔۔۔
    میں [مرداوی] کہتا ہوں کہ: یہی درست موقف ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔
    اور اگر کوئی شرط نکاح ہونے کے بعد لگائی جائے تو امام احمد نے صراحت سے کہا ہے کہ وہ شرط لاگو نہیں ہو گی۔ انتہی (الإنصاف:8؍ 154)
    اسی طرح شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    ’’نکاح کے بعد شرط لگانے کی گنجائش نہیں ہے؛ کیونکہ [حنبلی] فقہی موقف کے مطابق اب کسی کو نئی شرائط لگانے کا اختیار نہیں ہے۔ البتہ خرید و فروخت کا معاہدہ مکمل ہونے کے بعد نئی شرط لگائی جا سکتی ہے، جیسے کہ اختیار مجلس کے دوران نئی شرط لگا دی جائے یا اختیار شرط میں جیسے کہ پہلے بھی گزر چکا ہے۔‘‘ انتہی
    ( الشرح الممتع على زاد المستقنع: 12/ 163)
    چہارم:
    اس خاتون کیلیے ضروری ہے کہ وہ اسلام قبول کرنے میں تاخیر نہ کرے، اور دوسری شادی کے مسئلے کو اپنے اور اپنے خاوند کے اسلام میں داخل ہونے کی راہ میں رکاوٹ مت بنائے؛ کیونکہ یہ تو شیطان کی جانب سے پیدا کردہ خوف ہے شیطان چاہتا ہے کہ آپ اسلام میں داخل نہ ہو!
    اس لیے اس خاتون کو چاہیے کہ شیطان کو اپنے اہداف میں کامیاب مت ہونے دے، شیطان اسے اسلام سے دور رکھنا چاہتا ہے وہ شیطان کی بات مت مانے، اس کی پوری کوشش ہے کہ اس جوڑے کو اسلام میں داخل ہونے سے رکاوٹیں کھڑی کرے۔
    بلکہ اس خاتون کو چاہیے کہ اللہ تعالی سے خیر کی امید رکھے اور یہ یقین رکھے کہ اگر وہ مسلمان ہو گئی تو اللہ تعالی اسے بے سہارا نہیں چھوڑے گا، بلکہ جس قدر انسان اللہ تعالی کی جانب متوجہ ہوتا ہے تو اللہ تعالی بندے کی جانب اس سے زیادہ توجہ فرماتا ہے، اللہ تعالی اپنے بندے سے محبت فرماتا ہے،اس کا اکرام کرتا ہے اور اس کے معاملات بھی آسان کر دیتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:

    وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِب

    ’’اور جو تقوی الہی اختیار کرے تو اللہ اس کیلیے نکلنے کے راستہ بنا دیتا ہے اور اسے ایسی جگہوں سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے امید بھی نہیں ہوتی۔( الطلاق:2-3)
    واللہ اعلم.
    فتویٰ لنک:
    https://islamqa.info/ur/255898

جواب دیں