جماع کے بغیرحلالہ

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

سوال:

بہن نے سوال کیا ہے کہ طلاق کے بعد اگرکوئی مرد یا عورت چاہیں کہ وہ رجوع کرلیں تو اس صورت میں حلالہ کرنا ہوتا ہے، تو کیا حلالہ میں یہ درست ہے کہ حلالہ تو کروایا جائے، لیکن اس حلالہ میں میاں بیوی والا تعلق قائم نہ ہو۔ اور پھر یہ محلل اس عورت کو طلاق دے دے، اور یہ عورت
اپنے پہلے خاوند سے نکاح کرلے۔ اس بارے میں رہنمائی فرمائیں

کام جاری ہے 0
تعلیم النسآء 3 سال 1 جواب 158 ناظرین 0

جواب ( 1 )

  1. جواب:

    بہن! سب سے پہلے تو آپ یہ جان لیں کہ طلاق تین بار تین مواقع میں دی جائے تو پھر تین طلاقیں واقع ہوتی ہیں۔ اگر کسی مرد نے ایک ہی مجلس میں ایک ہی بار تین بار طلاق دے دی تو یہ طلاق ایک ہی طلاق شمار ہوگی۔

    جہاں تک بات دوبارہ مرد وعورت کے رجوع کی ہے تو اس حوالے سے جان لیجیے کہ

    1۔ اگرمرد نے ایک طلاق دی یا دو طلاقیں دیں، لیکن عدت کے اندراندررجوع نہیں کیا۔ مگراب وہ رجوع کرنا چاہتے ہیں تو ان کا دوبارہ نکاح پڑھایا جائے گا۔ اس صورت میں کسی اورمرد سے نکاح کرنے کی ضرورت نہیں۔
    2۔ لیکن اگرکسی مرد نے بیوی کو تین طلاقیں دے ڈالیں تو اب یہ عورت اس مرد پرہمیشہ کےلیے حرام ہے۔ لیکن اس صورت میں اگرمرد عورت دوبارہ رجوع کرنا چاہتے ہیں تو پھر اس عورت کا کسی اور مرد سے نکاح ہوگا، نکاح کے بعد میاں بیوی والا تعلق قائم ہوگا، اس کے بعد دوسرا خاوند
    اپنی مرضی سے طلاق دے گا، تو پھر اس کے بعد یہ عورت اپنے پہلے خاوند سے نکاح کرسکتی ہے۔

    جو سوال آپ نے پوچھا ہے تو سسٹر! اسلام میں حلالہ کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اور حلالہ کہتے ہیں کہ ’’کسی مطلقہ عورت کا ( اس کو اس کے پہلے خاوند کےلئے حلال کرنے کی غرض سے) کسی دوسرے مرد کے ساتھ ایک متعین وقت کے لئے نکاح کر دیمت، پھر وہ اس مدت کے پورا ہونے کے بعداس عورت کو طلاق دے دے اور پہلا خاوند اس سے دوبارہ نکاح کر لے‘‘ تو اس صورت کو حلالہ کہتے ہیں۔ یہ طریقہ ناجائز ہے۔ بلکہ اس فعل کو لعنتی فعل قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ ہے

    لعن اللہ المُحَلِّل والمُحَلَّل لہ۔(أبوداود:2076)
    ’’حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے ان دونوں پراللہ کی لعنت ہو۔‘‘

    لیکن اگرشرعی رہنمائی پرچلتے ہوئے نمبردو کی آپشن استعمال کی جاتی ہے تو پھر میاں بیوی والا تعلق قائم ہوگا۔ کیونکہ حدیث مبارکہ ہے

    حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: جَاءَتْ امْرَأَةُ رِفاعَةَ القُرَظِيِّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ، فَطَلَّقَنِي، فَأَبَتَّ طَلاَقِي، فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ إِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَقَالَ:أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟ لاَ، حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ۔(بخاری:2639)
    ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا زہری سے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میں رفاعہ کی نکاح میں تھی ۔ پھر مجھے انہوں نے طلاق دے دی اور قطعی طلاق دے دی ۔ پھر میں نے عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے شادی کرلی ۔ لیکن ان کے پاس تو ( شرمگاہ ) اس کپڑے کی گانٹھ کی طرح ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کیا تو رفاعہ کے پاس دوبارہ جانا چاہتی ہے لیکن تو اس وقت تک ان سے اب شادی نہیں کرسکتی جب تک تو عبدالرحمن بن زبیر کا مزا نہ چکھ لے اور وہ تمہارا مزا نہ چکھ لیں۔

    واللہ اعلم بالصواب

جواب دیں