نامحرم سے ٹیلیفونک بات چیت اور ولی کی اجازت کے بغیر نکاح

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

سوال:

بہن نے سوال کیا ہے کہ اگر ایک لڑکا نماز پڑھتا ہو، نامحرم لڑکی سے بات کرتا ہو، اوراولیاء کی مرضی کے خلاف شادی کرنا چاہتا ہو، تو اس بارے قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں

کام جاری ہے 0
تعلیم النسآء 3 سال 1 جواب 180 ناظرین 0

جواب ( 1 )

  1. جواب:

    بہن عورت کی مرد کے ساتھ گفتگو اس وقت ہو سکتی ہے جب فتنہ سے محفوظ رہنے کی گارنٹی دی گئی ہو اور اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ

    ’’واذا سالتموھن متاعا فاسئلوھن من وراء حجاب‘‘
    ور جب تم کسی ضرورت اور حاجت کی وجہ سے عورتوں سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔

    اگر گفتگو کا مقصد دینی مسائل کی راہنمائی حاصل کرنا ہو تو وقار، متانت، سنجیدگی اور شرعی تعلیمات کو ملحوظ خاطر رکھ کر گفتگو کی جا سکتی ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین متعدد مسائل میں اماں عائشہ صدیقہ، سیدہ، طاہرہ، مطہرہ رضی اللہ عنہا سے راہنمائی لیا کرتے تھے۔ اور اگر بات چیت کا مقصد وقت گزاری اور دوستیاں لگانا ہو توغیر محرم لڑکوں اور لڑکیوں سے گفتگو کرنا ناجائز، حرام اور ممنوع ہے۔

    اس لیے شرعی اجازت کے بغیر کسی نامحرم لڑکےلڑکی کا آپس میں بات چیت کرنا، محبت کی پینگیں باندھنا، شادی اور مر مٹنے کے وعدے کرنا، ملاقات کرنا وغیرہ سب حرام ہے۔

    لہٰذا بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے مرد کو عورت سے اور عورت کو مرد سے ضرورت کے تحت فون پر بات چیت کرنے کی اجازت ہے لیکن اس میں بھی بہت لحاظ رکھنا پڑتا ہے کہ یہ بھی ایک طرح کی خلوت ہے جس میں مرد وعورت کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے۔

    جہاں تک بات اولیاء کی اجازت کے بغیر نکاح کرنے کی ہے۔ تو ایسا نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ کیونکہ شریعت مطہرہ میں نکاح کے لیے ولی کی اجازت کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ لیکن ولی کی اجازت مرد کے لیے شرط نہیں ہے بلکہ یہ عورت کے ساتھ خاص ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

    أیما امرأة نکحت بغیر إذن موالیها فنکاحها باطل ثلاث مرات۔ (ابوداؤد: 2083)
    ’’جس عورت نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا، اس کا نکاح باطل ہے۔ آپﷺ نے یہ کلمات تین مرتبہ دہرائے۔‘‘

    یہ حکم خواتین کے لیے ہے نہ کہ مردوں کے لیے۔ مرد خود اپنا ولی ہے وہ شریعت کے احکامات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہیں بھی اپنا نکاح کر سکتا ہے۔ البتہ لڑکے کو چاہئے کہ وہ نکاح کرتے ہوئے اولیاء کی رضامندی کو اولین ترجیح دے۔ اور حتی المقدور اپنے اولیاء کو ناراض نہ کرے۔ بالخصوص جب ان کی رضا میں شریعت کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    إن اللہ حرم علیکم عقوق الأمهات۔ (صحیح بخاری : 2408)
    اللہ تعالیٰ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی کو حرام فرما دیا ہے۔

    اس تصریح کے بعد لڑکے کا اولیاء کی رضامندی کے بغیر نکاح تو درست ہو گا۔ لیکن اگر والدہ اس وجہ سے راضی نہیں ہیں کہ وہ لڑکی میں کوئی شرعی عیب دیکھتی ہیں تو پھر والدہ کی رضا کو سامنے رکھتے ہوئے شادی کے فیصلے پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔

    واللہ اعلم بالصواب

جواب دیں