نماز میں ایک ساتھ دو سجدے کیوں کیے جاتے ہیں

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

سوال:

بہن نے ایک پوسٹ کی، جس میں لکھا تھا کہ نماز میں دو سجدے اس لیے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا، تو فرشتوں نے یہ حکم مانا، تو یہ سجدۃ الحکم ہوا۔ لیکن اس حکم کو شیطان نے نہیں مانا، سو اللہ نے اسے مردود ٹھہرایا، تو پھر فرشتوں نے دوسرا سجدہ سجدۃ الشکر کیا۔ اس لیے ایک ہی بار نماز میں دو سجدے کیے جاتے ہیں۔ اس پر بہن نے پوچھا ہے کہ یہ بات کہاں تک درست ہے؟

کام جاری ہے 0
تعلیم النسآء 3 سال 1 جواب 1105 ناظرین 0

جواب ( 1 )

  1. جواب:

    بہن! اس بات کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور اسے متعدد اسباب کی وجہ سے بیان کرنا بھی جائز نہیں ہے ۔

    پہلی وجہ:
    یہ ایسا دعویٰ ہے جس کی کتاب وسنت میں کوئی دلیل نہیں ہے، اور نہ ہی علمائے تفاسیر میں سے کسی نے ذکر کیا ہے ۔

    دوسری وجہ:
    اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کے سجدہ کے لئے ایک ہی امر ذکر کیا ہے پھر اس کے بعد خبر دیا کہ سارے فرشتوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے ۔

    وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ۔ (البقرة: 34)
    اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا، اس نے انکار کیا اورتکبر کیا اور وہ کافروں میں سے ہوگیا۔

    تیسری وجہ:
    فرشتوں کا سجدہ آدم علیہ السلام کے لئے تھا جبکہ نماز میں ہمارا سجدہ اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔ تو نمازی کا اللہ کے لئے سجدہ اور فرشتوں کا آدم علیہ السلام کے لئے سجدہ دونوں میں کوئی تعلق ہی نہیں ہے ۔

    چوتھی وجہ:
    اللہ تعالی نے بغیر علم کے کوئی بات کہنے کو حرام قرار دیا ہے۔ فرمان باری تعالی ہے ۔

    قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ۔ ( الأعراف: 33)
    آپ فرمادیجئے کہ البتہ میرے رب نے صرف حرام کیا ہے ان تمام فحش باتوں کو جو اعلانیہ ہیں ، اور جو پوشیدہ ہیں اور ہر گناہ کی بات کو اور ناحق کسی پر ظلم کرنے کو اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس بات کو کہ تم لوگ اللہ کے ذمے ایسی بات لگادو جس کو تم جانتے نہیں ۔

    واللہ اعلم بالصواب

جواب دیں