نکاح شغار(وٹہ سٹہ) اور شرعی حکم

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

سوال:

بہن نے سوال کیا ہے کہ کیا وٹہ سٹہ کی شادی جائز ہے؟ جبکہ دونوں فریق بخوشی یہ شادی کروارہے ہوں

کام جاری ہے 0
تعلیم النسآء 3 سال 1 جواب 396 ناظرین 0

جواب ( 1 )

  1. جواب:

    بہن! وٹہ سٹہ کی دو صورتیں ہیں

    1۔ کسی شخص نے اپنے بھائی کو اپنی بیٹی کا رشتہ دیا، اس کے بعد اس نے اپنی بیٹی کا رشتہ اپنے بھائی کے بیٹے سے کردیا، نکاح کرتے وقت کوئی شرط وغیرہ نہیں رکھی گئی، اس کے جائز ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔
    2۔ دوسری قسم وٹہ سٹہ ارادی ہے، یعنی نکاح کرتے وقت یہ شرط کرلی جائے کہ تم اپنی بیٹی کا رشتہ میرے بیٹے سے کروگے۔ تو میں اپنی بیٹی کا رشتہ تمہارے بیٹے کو دونگا۔ اسے شریعت کی اصطلاح میں ’’شغار‘‘ کہتے ہیں۔ شرعی طور پر ایسا کرنا جائز اور حرام ہے۔ حدیث میں بیان ہے کہ شغار کا اسلام میں کوئی وجود نہیں ہے۔

    عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الشِّغَارِ۔(بخاری:5112)
    سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا ہے۔

    حدیث میں شغار کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:

    أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الْآخَرُ ابْنَتَهُ لَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ۔(بخاری:5112)
    شغار یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی لڑکی یا بہن کا نکاح اس شرط کے ساتھ کرے کہ وہ دوسرا شخص اپنی ( بیٹی یا بہن ) اس کو بیاہ دے اور کچھ مہر نہ ٹھہر ے۔

    ’’ لَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ‘‘ کے الفاظ کی وجہ سے بعض علما کا خیال ہے کہ اگر درمیان میں مہر رکھ دیا جائے تو نکاح شغار کے دائرہ سے نکل جاتا ہے۔ لیکن یہ جاننا چاہیے کہ اس تعریف میں حق مہر کا ذکر اتفاقی ہے احترازی نہیں ہے۔ جیسا کہ ایک اور حدیث میں ہے

    حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ هُرْمُزَ الْأَعْرَجُ، أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ أَنْكَحَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَكَمِ ابْنَتَهُ، وَأَنْكَحَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنَتَهُ، وَكَانَا جَعَلَا صَدَاقًا، فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى مَرْوَانَ, يَأْمُرُهُ بِالتَّفْرِيقِ بَيْنَهُمَا، وَقَالَ فِي كِتَابِهِ: هَذَا الشِّغَارُ الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ (ابوداؤد:2075)
    عبدالرحمٰن بن ہرمزالاعرج بیان کرتے ہیں کہ عباس بن عبداللہ بن عباس نے عبدالرحمٰن بن حکم سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا اور عبدالرحمٰن نے اپنی بیٹی کا نکاح ان سے کر دیا اور دونوں نے اس نکاح ہی کو حق مہر ٹھہرایا تھا ۔ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مروان کو یہ حکم لکھ بھیجا کہ وہ ان کے مابین تفریق کرا دے ۔ انہوں نے اپنے خط میں کہا کہ یہی وہ شغار ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔

    اور پھر جب معاشرتی طور پر نکاح شغار کو دیکھا جاتا ہے کہ مہرہونے یا نہ ہونے سے اس کی قباحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، کیونکہ جب خرابی پیدا ہوتی ہے تو دونوں گھر اجڑ جاتے ہیں، حالانکہ قصور ایک کا ہوتا ہے اور دوسرا بلاوجہ زیادتی کے لئے تختہ مشق بن جاتا ہے، لہٰذا اس قسم کےنکاح سے اجتناب کرناچاہیے۔ وٹہ سٹہ کا نکاح سرے سے کسی بھی صورت میں منعقد نہیں ہوتا۔

    واللہ اعلم بالصواب

جواب دیں