سب چھوڑ کر تبلیغی جماعت کے ساتھ جانا

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

سوال:

یہ تبلیغی جماعت والے کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ چلو سب چھوڑ کے چاہے بچہ ہو یا بوڑھا گھر میں ؟ ان کے ساتھ جانا صحیح ہے اگر ہے تو کس حد تک؟

کام جاری ہے 0
تعلیم النسآء 3 سال 1 جواب 176 ناظرین 0

جواب ( 1 )

  1. جواب:

    “تبلیغی جماعت “اسلام کے لئے کام کرنے والی جماعتوں میں سے ایک ہے، اور دعوت الی اللہ کے لئے ان کی جدوجہد سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ بھی ان جماعتوں میں سے ایک ہے جن سے غلطیاں سر زد ہوئی ہیں ،اور ان پر اعتراضات کیے گئے ہیں دعوت دینے کے لئے نکلنے کی جو[دنوں وغیرہ کی]ترتیب ان کے ہاں مقرر ہے یہ اس ترتیب کو عبادت سمجھتے ہیں، اور اس کے لئے وہ قرآنی آیات سے دلیل اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان آیات سے مقصود ان کے ہاں وہ دن اور مہینے ہیں، جوان کے ہاں مقرر ہیں ۔
    بات صرف ترتیب مقرر کرنے کی ہی نہیں ہے بلکہ یہ ترتیب ان کے ہاں اس قدر مشہور اور معروف ہے کہ ماحول ،ملک اور لوگوں کے مختلف ہونے سے بھی یہ مقررہ تعداد مختلف نہیں ہوتی ۔انسان اگر اللہ کی طرف دعوت دینے کے لئے نکلے تو معین ایام کی تخصیص نہ کرے بلکہ بقدر وسعت و طاقت، اللہ کی طرف دعوت دے، کسی جماعت یا دنوں کو مثلاً: چالیس دن یا اس سے کم یا اس سے زیادہ کی تخصیص نہ کرے۔س میں کوئ شک نہیں کہ اس طرح کی مشکلات کا سامنا اس وقت ہوتا ہے جب شرعی احکام کا علم نہ ہو ، اسے اس بات کا علم نہ ہو کہ گھرانے میں اس کی کیا ذمہ داری ہے ، اور اللہ تعالی نے خاندان اوراس کے گھرانے کے متعلق اس پر کیا ذمہ داریاں عائد کی ہیں ۔
    بیوی اور اولاد کا سب سے بڑا حق یہ ہے کہ ان کے نان ونفقہ کا انتظام کیا جاۓ ، بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے بندہ جس کے ساتھ اللہ تعالی کی سب سے بڑی اطاعت اوراس کا تقرب حاصل کرتا ہے ۔اللہ عزوجل نے ہمیں یہ خبر دی ہے کہ مرد ہی عورتوں پر خرچہ کرنے کا ذمہ دار ہے ، اسی لۓ توانہیں اللہ تعالی نے عورتوں پر فضیلت دی ہے کہ وہ ان کے ذمہ دار اور ان پر خرچہ اور ان کے مہر کے ذمہ دار ہیں ۔

    اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے : { مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالی نے ایک کو دوسرے پرفضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کۓ ہیں } اس نان ونفقہ کے وجوب پر قرآن وسنت میں بہت سے دلائل پاۓ جاتے ہیں اور اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ یہ واجب ہے اور اسی طرح عقل بھی اس کے وجوب پر دلالت کرتی ہے ۔اوروھب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ کے غلام نے انہیں کہا کہ میں میں یہ مہینہ بیت المقدس میں گذارنا چاہتا ہوں ، تو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی اسے کہنے لگے تو نے اپنے گھروالوں کے لۓ اس مہینے کاخرچہ انہيں دے دیا ہے ؟ تو اس نے جواب دیا نہیں ، توانہوں نے اسے کہا کہ واپس جا‎ؤ اورانہيں خرچہ دو کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے کہ : آدمی کے لۓ یہ گناہ کافی ہے کہ وہ اپنی کفالت میں رہنے والوں کو ضائع کردے ۔ مسند احمد ( 2 / 160 ) ابوداود حدیث نمبر ( 1692 )

    اور اس حدیث کی اصل مسلم شریف حديث نمبر( 245 ) ہے جس کے الفاظ یہ ہیں ( آدمی کے لۓ یہ گناہ ہی کافی ہے کہ وہ جن کے خرچہ کا ذمہ دار ہے ان کا خرچہ روک لے )

    انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( اللہ تعالی ہر ایک سے اس کی رعایا کے متعلق سوال کرے گا کہ آیا اس نے ان کی حفاظت کی یا کہ ضائع کردیا ، حتی کہ آدمی کو اس کے اہل خانہ کے متعلق بھی سوال کیا جاۓ گا ) صحیح ابن حبان ۔اور کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں ہے کہ :

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک شخص گزرا تو صحابہ کرام کو اس پھرتی اور جثہ بہت ہی اچھالگا تو وہ کہنے لگے اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر یہ شخص اللہ تعالی کے راستے میں (جہاد) ہوتا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ : اگریہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے (رزق ) کے لۓ کوشش کررہا ہے تو یہ اللہ تعالی کے راستے میں ہے ، اوراگر یہ اپنے بوڑھے والدین کے لۓ کوشش کررہا ہے ہو اللہ تعالی کے راستے میں ہے ، اور اگر یہ اپنے آپ کے لۓ کوشش کررہا ہے تاکہ عفت اختیار کر سکے تو یہ اللہ تعالی کے راستے میں ہے ، اور اگر یہ ساری کوشش میں ریاء کاری ہے تو پھر یہ شیطان کے راستے میں ہے ۔ اسے طبرانی نے روایت کیا ہے ، صحیح الجامع ( 2 / 8 )

    سلف رحمہ اللہ تعالی نے اس واجب کو صحیح طور پر سمجھا اور اس میں تفقہ اختیار کیا ، اور انہوں نے اسے اپنے اہل وعیال کے ساتھ اپنی عملی زندگی میں چراغ کی حیثیت دے رکھی تھی ، اس مسئلہ میں عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ تعالی کا بہت ہی عظیم قول ہے وہ فرماتے ہیں کہ : رزق حلال کمانے کی جگہ کوئ اور عمل نہيں لے سکتا حتی کہ جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ۔ السیر ( 8/ 399 )

    تو کسی مسلمان کے لۓ یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے اہل عیال کو ضائع کرے اور ان کی ضروریات کا خیال نہ رکھے اور انہیں خرچہ فراہم نہ کرے اگرچہ اس کا یہ ہی گمان کیوں نہ ہو کہ وہ یہ سفر نیکی اور اچھے کام کے لۓ کررہا ہے ، کیونکہ اہل وعیال کوضائع کرنااور ان کی ضروریات کا خیال نہ کرنا اور انہیں خرچہ فراہم نہ کرنا حرام ہے ، اوراس کے متعلق عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی کی نصیحت بیان کی جاچکی ہے جو کہ انہوں نے اس شخص کو فرمائ تھی جو کہ بیت المقدس میں ایک مہینہ کے لۓ رہنا چاہتا تھا اس کے لۓ یہ واجب ہے کہ وہ پہلے اہل وعیال کے خرچہ کا انتظام کر ے ۔دوسری بات یہ کہ اس طرح یہ لوگ کا ریا کاری میں مبتلا ہو جاتے ہیں ،چنانچہ آپ دیکھیں گے کہ وہ یہی بیان کرتے رہتے ہیں کہ وہ [تبلیغ کے لئے] گھر سے نکلا، اور سفر کیا، فلاں جگہ منتقل ہوا، اس نے فلاں چیز دیکھی اور اس کا مشاہدہ کیا، اور ان کی یہ عجب پسندی ایسے ہی دیگر کئی مذموم کاموں کی طرف لے جاتی ہے ۔

    9- ان کے نزدیک دعوت کے لئے نکلنا بہت سی عبادات ، مثلاً: جہاد اور علم کے حصول سے بھی افضل ہے، حالانکہ جسے وہ ان عبادات پر فوقیت دیتے ہیں وہ ایسے واجبات میں سے ہے، یا ایسا فعل ہے جو کبھی صرف چند لوگوں پر واجب ہوتا ہے تمام لوگوں پر نہیں۔اللہ کے رستے میں نکلنے کا مطلب وہ نہیں جو یہ لوگ آج کل بیان کرتے ہیں، بلکہ اس کا مطلب جہاد کے لئے نکلنا ہے، جس [مخصوص فعل کو ]یہ لوگ اب “خروج فی سبیل اللہ” کہتے ہیں، یہ بدعت ہے اور سلف سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔
    انسان اگر اللہ کی طرف دعوت دینے کے لئے نکلے تو معین ایام کی تخصیص نہ کرے بلکہ بقدر وسعت و طاقت، اللہ کی طرف دعوت دے، کسی جماعت یا دنوں کو مثلاً: چالیس دن یا اس سے کم یا اس سے زیادہ کی تخصیص نہ کرے۔
    اسی طرح داعی کی ذمہ داری ہے کہ وہ صاحب علم ہو، کوئی جاہل شخص اللہ کی طرف دعوت نہ دے [کیونکہ اسے خود دین کی صحیح معرفت نہیں ہے البتہ جس مسئلہ کے بارے میں صحیح طور پر علم ہو اسے دوسروں کو بتایا جا سکتا ہے]
    واللہ اعلم بالصواب

جواب دیں